Sunday, 24 June 2018

Urdu short story.

محبت کی مہک۔ 


کہتے ہیں آج بھی اگر آپ کا کبھی ایاز نگر کی طرف جانے کا

اتفاق ہو تو وہاں اک خاص مہک آپ کا انتظار کرتی ہے۔ مہک آپ کو دیوانہ وار اردگرد دیکھنے پر مجبور کرتی ہے، کہ شاید کوئی اس پاس ہو، کوئی تازہ دیسی گلابوں کا ہار ہو۔ 

چودھری ایاز اس علاقہ کا مالک تھا، چونکہ وہ اکلوتی اولاد تھا، اس کے والد چوہدری غلام علی نے بہت ناز سے اس کی پرورش کی تھی، غصہ کا تیز تھا پر پیار کے جذبات سے باخوبی واقف تھا، پورے ایاز نگر کیلیے چوہدری ایک شفیق باپ کی اہمیت کا حامل تھا۔  

ایاز کی شادی راج نگر کے چوہدری اللہ دتہ کی بیٹی سمیرا سے قرار پائی۔ اللہ دتہ اور غلام علی جگری یار تھے، دونوں نے ایک ساتھ سکول میں پڑھا تھا، غلام علی  نے سکول کے بعد تعلیم کو خیرآباد کہ دیا تھا اور اپنے مرحوم والد کی زمینوں کی دیکھ بھال میں لگ گیا تھا۔  اللہ دتہ نے تعلیم کا ساتھ نہ چھوڑا اور اللہ دتہ سے ڈاکٹر اللہ دتہ ہو گیا۔ 

ایاز نگر اور راج نگر کے درمیان میں تقریباً کوئی سو کلو میٹر کا فاصلہ تھا، غلام علی اپنے بیٹے سمیت برسوں بعد راج نگر کی طرف نکلا، کچھ دوست کی یاد ستائی اور کچھ صلاح مشورہ کی ضرورت تھی، اللہ دتہ کو بذریعہ خط بتا دیا گیا تھا کہ جون کے پہلے ہفتے میں غلام علی اور ایاز اس کے ہاں مہمان ہوں گے۔ 

اس شام موسم کچھ بہتر تھا،ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی جیسے راج نگر میں چوہدری غلام علی اور اس کے فرزند کا استقبال کر رہی ہو، سامنے ان کی منزل تھی، اللہ دتہ کی حویلی، آج بھی وہ دن غلام علی کو یاد ہیں جب وہ سکول سے چھٹیوں میں یہاں آیا کرتا تھا۔ دونوں دوست بیٹھے گزرے وقتوں کی یادیں تازہ کرتے رہے اور اتنے میں سفید دوپٹہ اوڑھے اک خوبصورت لڑکی چاۓ لے کر حاضر ہوئی، اس کی بڑی بڑی آنکھیں اور گلابی ہونٹ دیکھ کر ایاز کے دل میں ہلچل مچ گئی اور وہ بس اس کی طرف دیکھتا رہا۔ بیٹی سمیرا، یہ ہیں چوہدری غلام علی صاحب اور ان کے فرزند چوہدری ایاز، اللہ دتہ نے تعارف کروایا۔ 

غلام علی نے بھی تکلف سے بھرپور تعارف کروایا تو اللہ دتہ نے شکایت کی کہ اتنا تکلف کیوں کیا، جگری یار کا اس طرح تعارف کرواؤگے؟ 

ان دونوں کی باتوں سے بے خبر ایاز اپنی دنیا میں گم تھا، جوانی کی دہلیز سے گزر چکا تھا اور جذبات سے نیا نیا آشنا ہو رہا تھا۔ پوری رات وہ سوچتا رہا کہ کیا وہ اپنی خواہش سے اپنے والد کو آگاہ کرے، آخر بےقراری سے تنگ آکر اس نے اپنی خواہش کا اظہار کردیا، اکلوتا ہونے کی وجہ سے باپ کی آنکھ کا تارا تھا، غلام علی نے اپنے دوست سے بات کی، فیصلہ یہ ہوا کہ سمیرا اپنی تعلیم حاصل کر کے ایاز کے ساتھ بیاہ دی جائے گی۔ وہ دو سال ایاز نے گن گن کر کاٹے، خط و کتابت کی اجازت تھی اور ہر خط میں دونوں پیار کا اقرار کرتے، گو کہ سمیرا شروع میں اس بندھن سے خوش نہیں تھی پر ایاز کی پرخلوص محبت نے اس کا دل جیت لیا اور وہ بھی شادی کے دن گننے لگ گئی۔ آخر شادی کا دن بھی آگیا اور دونوں کی جوڑی کو چاند و سورج کی جوڑی سے مماثلت دی جاتی تھی۔ 

وقت گزرتا گیا اور سمیرا کی جھولی پانچ بچوں سے بڑھ گئی، فراز، سجاد، ہمیرا، تنویر اور گلابو۔ گلابو ایاز کی آنکھوں کی روشنی تھی، بلکل اپنی ماں کی شکل پر تھی اور ایاز جیسی خوش مزاج اور با ادب تھی۔ وقت گزرتا رہا اور گلابو چوہدری ایاز کے گھر اور پورے ایاز نگر کی جان بن گئی۔ سکول سے کالج تک کا سفر بہت کچھ بدل گیا، کمال کالج کا سب سے خوبصورت لڑکا تھا اور فراز کے دوست کا چچچا ذاد بھائی بھی تھا۔ کمال اورر گلابو اک دوسرے کو چاہنے لگے، نوجوانی میں انسان کافی کچھ بھول جاتا ہے، پر باپ اور بھائیوں کی عزت کی خاطر اس نے شرم و حیاء کا دوپٹہ کبھی نہ اتارا۔ لوگ کبھی کبھار کوئی بات کمال کو لگا دیتے پر وہ اپنے کام میں مگن رہتا تھا، اس کے نزدیک پیار ایک مقدس اہمیت کا حامل تھا۔ 

دسمبر کی اک سرد شام تھی، کسی وجہ سے گلابو کو کالج میں رکنا پڑا اور کوئی تانگہ نظر میں نہ تھا، وہ پیدل گھر کو چلی۔ راستے میں اجب اتفاق ہوا کہ کمال اپنی موٹر سائیکل پر وہاں سے گزرا، اس نے لفٹ کی پیشکش کی جو گلابو نے کچھ سوچ کے بعد قبول کر لی، ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا اور اندھیرے کا یہ سماں، دل گھبرا رہا تھا۔ 

ایاز نگر میں خاموشی اور بے چینی کا موسم تھا، فراز اور سجاد دونوں موٹر میں شہر کی طرف نکل دیے۔ موٹر سائیکل حویلی کے دروازے پر رک گیا، گلابو بے کمال کا شکریہ ادا کر کے اپنی راہ لی، چوہدری ایاز نے دیکھا تو گلے لگا کر 

 پوچھا کہ کدھر رہے گئی تھیں۔ 

شہر میں دونوں بھائیوں کو مختلف کہانیاں سننے کو ملیں، کبھی کوئی کچھ مصالحہ لگائے تو کبھی دوسرا کسی اور طرح،

 

 فراز غصہ میں آگ بگولہ ہو گیا اور اس کے دل میں اپنی بہن کیلیے نفرت کے سوا کچھ نہ تھا، اس کے نزدیک اس کی عزت نیلام ہو چکی تھی۔ واپس جاتے ہوۓاس نے ایک تیز دہار چاقو خریدا اور کوٹ کی جیب میں رکھ لیا۔ 

حویلی میں خوشی کا سماں تھا،فراز اور سجاد واپس آچُکے تھے، فراز کو خوشی نہ تھی، اس نے گلابو کو گلے لگایا اور ساتھ ہی چاقو کے وار سے اس بیچاری کی شہ رگ کاٹ ڈالی۔ خون کی اک دہاڑ نکلی اور اس کے سفید دوپٹے کو سرخ کرتی چلی۔ چوہدری ایاز کے ہاتھوں میں تڑپ تڑپ کر جان دے دی، آخری بات جو اس نے بولی “ابا حضور آپ کی عزت سرآنکھوں پر” 

 تدفین کے وقت چوہدری ایاز نے بھی یہ دنیا چھوڑ دی تھی۔ 

آگر آپ کا کبھی جانا ہو اس طرف تو اس مہک کو ضرور محسوس کیجیے گا، کہتے ہیں وہ مہک خالص محبت کی ہے۔

Thursday, 24 May 2018

Saturday, 13 May 2017

Happy mother's day

For that one special lady in everyone's life. To those of us who still have them we are lucky, to those who lost them, they will forever be with you!
Like always I'll email her something by tomorrow morning. My way of showing how I appreciate her efforts & everything

Friday, 28 April 2017

Integrated

College organized a trip to an institute for the special needs children. I was pretty interested to see as how they can help these children integrate into  the society.
In this everyday society where your work is a pointer of your integration into the everyday life there was a question in my mind can they actually be integrated.
What I saw in that institute surprised me. The level of commitment, the hard work both by the facilitators and the children was just beyond imagination.
And then seeing what skills they are able to learn if their academic learning capacities are restricted, it really changed my mind.
What they make over there, the simple decoration pieces to a huge variety of things, I can see those around me in everyday life and that makes them integrated into this society

Sunday, 23 April 2017

Beach and a Ferry

Years ago I was at a beach in Yorkshire, when you think of a beach you want a nice, sunny day and have a bit of a gentle breeze blowing, the kind that just caresses past your body, gives a bit of shuffle to your hair, a breath of fresh air you inhale, sometimes you want to walk on the wet sand without your shoes, with each step you walk a tide of water touches your feet, you feel elevated into a sensation which is way beyond the description of words.
How about sitting on a the deck of ferry, setting your eyes on towards what lies beyond the waters, you are able to make out the faint outlines, but why look so far away in the distance when you are able to look at the waves of water flowing gently, the cool hue spreads, if you wore a turquoise ring you might have been able to relate to the feeling you would might have. Look closely, on the ferries ahead there are others who might be enjoying the same view or some who wouldn't be able to grasp the depth of what this view could mean, but rest assured you are the only one reading this description. May be you are the one who could paint it in your mind without having the need to look at an image to visualize, are you the one?
But if you do need a picture, do look below.
Taken by Khizra Imran, a very talented colleague of mine from college


Sunday, 9 April 2017

Exams

Exams, a few days of anxiety, stress, hard work, sometimes depression and then life comes back to it's normal levels again but what if you could keep life normal while going through such a time. What if you could do what you usually do and still be calm and confident enough when the big day comes along, I didn't study properly when I needed to (school) and I just floated along till I came to this stage of being a medical student, while I didn't do anything in school I didn't learn anything about stress, maintaining yourself and being calm, what did I learn after going through 3 years of exams was that no matter how hard you try if you can't maintain those final few minutes you can't expect a good result, you start good and then you carry that level of "good" to the very end.
You fall in the middle, you don't let that fall infect your end with a big fall, you pick yourself up and you walk through the middle placing your feet calmly and ensuring that you don't lose the balance.
So tomorrow is exam day for me and I'm trying to be calm, bit better at it then I used to be and now yeah things do make a bit more sense to me, in a few years to come every day would be an exam, an exam of how to deal with patients, how to get by the time when things are beyond humanly resources and when you just can't save a life, when you have to deal with the family of a patient and tell them their loved one couldn't make it, when you suffer some personal loss, when you can't make it to an important event just because your schedule didn't allow you to, it all will be an exam but what do you learn from it all, what you learn is how simple everything is, things just don't wait for anyone, you might wait for him/her but this world won't wait for you.
Before life teaches you things the hard way, try to make your own scheme of evaluating things and getting by. 
Hold on and you will get to have the golden reward of happiness, whether saving a life or whether having some personal level of happiness, it will all come by but if you work your way through different exams that you face, you will be able to enjoy these rewards much more cause you will know the value of happiness.